تہران(اے بی این نیوز) ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک قریبی مشیر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے اتحادی اہم بحری گزرگاہ باب المندب آبی گزرگاہ کو بند کر سکتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایران نے آبنائے ہرمز پر اثر انداز ہو کر اس کی بندش کی صلاحیت ظاہر کی تھی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، باب المندب آبی گزرگاہ سرخ سمندر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تیل و تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی۔
ایران کے سابق وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے کہا کہ مزاحمتی محاذ کی متحدہ قیادت باب المندب کو بھی اسی نظر سے دیکھتی ہے جیسے آبنائے ہرمز کو دیکھا جاتا ہے، اور اگر امریکا نے اپنی پالیسیوں میں سختی جاری رکھی تو اسے عالمی توانائی کے نظام میں بڑے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف مخصوص حالات اور باہمی مفاہمت کے تحت ہی کھلی رہ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، باب المندب آبی گزرگاہ کی بندش عالمی توانائی کی فراہمی پر شدید اثر ڈال سکتی ہے، کیونکہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اسی راستے سے یورپ اور ایشیا کو تیل برآمد کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق، 2024 میں تقریباً 4.1 ارب بیرل تیل اسی راستے سے گزرا، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 5 فیصد ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں بیک وقت بند ہو جائیں تو دنیا کی تقریباً 25 فیصد تیل و گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ عالمی تجارت کا تقریباً 10 فیصد حصہ بھی رک سکتا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کی مشرق وسطیٰ ماہر ایلیزابیتھ کنڈل کے مطابق، سرخ سمندر کا راستہ بند ہونا عالمی معیشت کے لیے انتہائی خطرناک صورتحال ہوگی، تاہم مختلف عناصر مکمل تصادم سے گریز بھی کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے متبادل راستوں پر کام تیز کرتے ہوئے تیل کی ترسیل کے لیے مغرب کی جانب واقع بندرگاہ ینبع تک پائپ لائن کے ذریعے نظام کو مزید فعال بنایا ہے، جس کا انتظام سعودی آرامکو کے پاس ہے۔
ماہرین کے مطابق، باب المندب آبی گزرگاہ کی ممکنہ بندش نہ صرف عالمی توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ کرے گی بلکہ دنیا بھر کی معیشت کو بھی ایک بڑے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے، درجن سے زائد افراد شہید















