واشنگٹن: (اے بی این نیوز) امریکی صدر Donald Trump نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو اسے “ایک رات میں تباہ” کر دیا جائے گا، اور یہ کارروائی کسی بھی وقت، حتیٰ کہ منگل کو بھی ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے لیے امریکی تجاویز نہایت اہم ہیں اور منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا مؤقف غیر متزلزل ہے کہ Iran کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں امریکی افواج نے ایران کے اندر ایک اہم ریسکیو آپریشن کیا، جس میں ایک امریکی پائلٹ کو بحفاظت واپس لایا گیا۔ ان کے مطابق اس مشن میں 200 فوجیوں نے حصہ لیا اور کارروائی دن کی روشنی میں انجام دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی ریسکیو آپریشن میں 21 لڑاکا طیارے شامل تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں بمبار طیارے، فائٹر جیٹس، ری فیولنگ ٹینکرز اور ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے۔ صدر کے مطابق اس دوران امریکی طیارے ایران کی حدود کے اندر تک گئے اور انہیں شدید فائرنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ایسی جدید ٹیکنالوجی اور اسلحہ موجود ہے جو دنیا کے کسی اور ملک کے پاس نہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ پہلے ہی ایران میں “رجیم تبدیل” کر چکا ہے اور سابق ایرانی جنرل Qasem Soleimani کو ہلاک کرنا اسی پالیسی کا حصہ تھا، جو مبینہ طور پر امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔
مزید برآں، ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر بدھ تک Strait of Hormuz کو نہ کھولا گیا تو ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر معاہدہ کر لے، بصورت دیگر اس کے ایٹمی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر اہم تنصیبات تباہ کر دی جائیں گی۔
امریکی صدر کے ان بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ تصادم کے خدشات کے پیش نظر صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر کیسے اور اس وقت کہاں ہیں،بر طانوی اخبار کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا،جا نئے تفصیل















