لندن ( اے بی این نیوز )برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مبینہ طور پر بے ہوش ہیں اور قم میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ان کی حالت پہلے اندازوں سے زیادہ نازک بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ اس وقت کسی بھی اہم حکومتی فیصلے میں شامل نہیں ہیں، جس کے باعث خطے کی صورتحال پر نئی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی مختلف میڈیا رپورٹس میں ان کے زخمی ہونے اور عوامی سطح پر سامنے نہ آنے کی خبریں سامنے آ چکی تھیں، تاہم سرکاری میڈیا کے ذریعے ان کے نام سے بیانات اور پیغامات جاری ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی ان کے نام سے ایک سخت ردعمل سامنے آیا تھا جس میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی گئی تھی۔
دوسری جانب بعض بین الاقوامی ذرائع نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ وہ ایران کے اندر ہی موجود ہیں لیکن سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر نظر نہیں آ رہے۔ اس تضاد نے خبر کو مزید حساس بنا دیا ہے، اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔
مزید پڑھیں : ایران کو ہم ایک رات میں تباہ کر دینگے، ہو سکتا ہے وہ کل کی رات ہو،ٹرمپ کی بڑھک















