تہران ( اے بی این نیوز )ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کے مختلف علاقوں پر درجنوں حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں دارالحکومت اور دیگر اہم شہر بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایرانی ایئر ڈیفنس اکیڈمی کے کمانڈر بریگیڈیٹر جنرل مسعود زارے شہید ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی ایئر ڈیفنس سے وابستہ ایک اعلیٰ عسکری افسر بھی حملوں میں جان کی بازی ہار گئے، جبکہ صوبہ فارس میں ہلال احمر کی گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا جس پر انسانی ہمدردی کے اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شہری علاقوں میں بھی بمباری کی گئی جس کے باعث خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 6 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانا خطے کے امن اور عالمی معیشت دونوں کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔
مزید پڑھیں :فرانس نے اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا اعلان کر دیا















