اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وفاقی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملک پر موجود شدید اقتصادی دباؤ کا نتیجہ ہے اور حکومت کو عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام کی شرائط کے تحت یہ مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق معاشی استحکام کے لیے وقتی طور پر سخت اقدامات ناگزیر تھے، تاہم عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف سبسڈی اقدامات بھی جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ، ریلوے، کسانوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دی ہے جبکہ ڈیزل پر کسی نئے لیوی کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، شپنگ چارجز، کسٹمز ڈیوٹی اور درآمدی لاگت میں عدم استحکام جیسے عوامل ملکی پالیسیوں کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹیشن اخراجات میں اضافہ فطری امر بن گیا ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم سبسڈی اور دیگر ریلیف اقدامات کے ذریعے عوامی دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور قیمتوں کا جائزہ ہر ہفتے لیا جا رہا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچایا جا سکے۔ ان کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں، ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوست ممالک کے ساتھ مالیاتی معاملات بھی معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ڈبیٹ ایٹ ایٹ میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے
یہ بھی واضح کیا کہ توانائی سے متعلق انفراسٹرکچر اور سپلائی چین کو ترجیح دی جا رہی ہے، جبکہ پاکستانی رجسٹرڈ بحری جہازوں کو بعض معاملات میں ترجیح دی گئی ہے تاکہ درآمدی عمل میں تسلسل برقرار رہے۔ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور بات چیت میں ہے، اور غیر ضروری احتجاجی کالیں صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار نہیں ہوتیں۔
عدالتی معاملات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ قانونی تقاضوں اور عدالتی احکامات کی پاسداری سب پر لازم ہے، اور ملاقاتوں یا دیگر امور میں طے شدہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد ضروری ہے۔ مجموعی طور پر ان کا مؤقف تھا کہ حکومت مشکل معاشی حالات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور عوامی ریلیف کے لیے دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں :فرانس نے اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا اعلان کر دیا















