تہران (اے بی این نیوز )بوشہر جوہری تنصیب کے قریب حملوں پر ایران نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ہنگامی خط ارسال کر دیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس حساس مقام سے کسی بھی قسم کی تابکاری خارج ہوئی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خلیجی خطے میں انسانی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور اس کے نتائج ایک بڑے انسانی و ماحولیاتی بحران کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری کے دوہرے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ یوکرین میں جوہری پلانٹ کے قریب معمولی جھڑپوں پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا، مگر اب اسی نوعیت کے خطرناک حالات پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق بوشہر کے قریب بار بار حملے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ سمندری ماحول، فضائی آلودگی اور خوراک کے نظام کو بھی شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
اگر خدانخواستہ تابکاری پھیلتی ہے تو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں، جس سے لاکھوں افراد کی صحت، معیشت اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر فوری عالمی مداخلت اور کشیدگی میں کمی کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ معمولی سی غلطی بھی ایک ناقابلِ تلافی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :ایران نے امریکہ کےمزید 2 طیاروں کے فضا میں ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے















