اسلام آباد (اے بی این نیو ز) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی موجودہ معاشی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ قیادت نے بھی شرکت کی۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اشرافیہ کو بھی قربانی دینا ہوگی اور کم اہم نوعیت کے منصوبوں کو روک کر عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اب تک 129 ارب روپے کا اضافی بوجھ خود اٹھا چکی ہے، جبکہ کفایت شعاری کے ذریعے مزید وسائل جمع کرنے کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں جنگ بندی کیلئے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور عالمی سطح پر امن کیلئے کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزارنے کے انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے اضافہ جنگی صورتحال کے باعث کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اراکین دو ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ سرکاری سطح پر تیل کے استعمال میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ چیلنجز کے باوجود ملک کو معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
مزید پڑھیں :ایران نے اسرائیل کے155 ڈرونز مار گرا ئے،جا نئے تفصیل















