اہم خبریں

ایس ایم ایس پر لاگت صرف ایک یا دو پیسے،بینکوں نے صارفین سےاربوں روپے وصول کر لئے

اسلام آباد (اے بی این نیو ز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ بینکوں نے ایس ایم ایس سروسز کی مد میں صارفین سے سالانہ 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے، جبکہ ایک ایس ایم ایس کی اصل لاگت محض ایک سے دو پیسے ہے۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ صارفین سے فی ایس ایم ایس 3 روپے 40 پیسے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر اراکین کمیٹی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے سامنے یہ بھی انکشاف ہوا کہ بینک اور ٹیلی کام کمپنیاں اپنی تشہیری مہمات اور سروس میسجز کی لاگت بھی صارفین کے اکاؤنٹس سے ہی وصول کرتی ہیں۔

بینکوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2021 میں ایک ایس ایم ایس کی لاگت 42 پیسے تھی جو بڑھ کر 2025 میں 3 روپے 40 پیسے ہو گئی، اور یہ اضافہ ٹیلی کام کمپنیوں کے چارجز میں اضافے کے باعث ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے نرخ کم کیے بغیر بینک خود سے کمی نہیں کر سکتے۔

ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک عنایت حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ بینکوں نے ایس ایم ایس سروسز کی مد میں 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپے ادا کیے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینکوں نے تقریباً 7 ارب روپے اضافی ادا کیے۔

اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ بینک سالانہ 400 ارب روپے منافع کما رہے ہیں، ایسے میں چند ارب روپے صارفین پر بوجھ ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چند پیسوں کی سروس کو کئی گنا زیادہ قیمت پر کیوں فروخت کیا جا رہا ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے ایک ایس ایم ایس کی لاگت ایک سے دو پیسے ہے جبکہ کمرشل بینک بھی اس عمل سے منافع کما رہے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے نے مؤقف دیا کہ ان کا کاروبار شفاف ہے اور متعدد بار آڈٹ ہو چکا ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے ہدایت کی کہ صارفین سے وصول کیے گئے ایس ایم ایس چارجز کا ایک سالہ مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے، جس کے بعد اس مسئلے کا جامع حل نکالا جائے گا اور فی ایس ایم ایس اصل لاگت کا تعین بھی کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں :امریکہ نے زمینی کارروائی کی تو اس کا ایک بھی فوجی زندہ واپس نہیں جا ئیگا،ایرانی فوجی کمانڈر انچیف

متعلقہ خبریں