تہران ( اے بی این نیوز )تہران نے آبنائے ہرمز پر سرخ لکیر کھینچ دی، فیصلہ صرف ایران اور عمان کریں گے،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کیساتھ کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ صرف پیغامات کا تبادلہ ہوا ، سٹیو وٹکوف کے ذریعے اطلاعات پہنچائی گئیں۔ ایران زمینی جنگ کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔ آبنائے ہرمز تک رسائی صرف دشمن ممالک کے جہازوں کیلئے محدود ہو سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید نازک ہو گئی ہے جہاں تہران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے ایک “سرخ لکیر” قرار دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس اہم سمندری گزرگاہ سے متعلق فیصلے صرف ایران اور عمان کے درمیان ہی کیے جائیں گے، جس نے عالمی سطح پر تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ اس وقت کوئی باقاعدہ مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ محدود سطح پر پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ پیغامات امریکی نمائندے کے ذریعے پہنچائے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ سفارتی رابطے ضرور جاری ہیں مگر کھلے مذاکرات کا کوئی عمل موجود نہیں۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ زمینی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں عسکری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق اگر حالات مزید خراب ہوئے تو آبنائے ہرمز تک رسائی دشمن ممالک کے جہازوں کے لیے محدود کی جا سکتی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ راستہ تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں :ایران نے امریکی فوجی ہیلی کاپٹر اڑا کر رکھ دیا















