اسلام آباد (رضوان عباسی) کابینہ ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے رواں مالی سال کے بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ سرکاری دستاویز کے مطابق 25 مارچ 2026 تک مختلف مدات میں اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال کے لیے 68 کروڑ 87 لاکھ 27 ہزار روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا جو حتمی طور پر بھی اسی سطح پر برقرار رہا، جبکہ اب تک 40 کروڑ 72 لاکھ 16 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس مد میں وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے لیے 50 کروڑ 54 لاکھ 73 ہزار روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 31 کروڑ 72 لاکھ 17 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔ اسی طرح وزیراعظم کے مشیروں کے لیے 6 کروڑ 8 لاکھ 70 ہزار روپے کے بجٹ میں سے 2 کروڑ 59 لاکھ 62 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جبکہ وزیراعظم کے معاونین خصوصی کے لیے 11 کروڑ 56 لاکھ 87 ہزار روپے مختص کیے گئے جن میں سے 6 کروڑ 40 لاکھ 37 ہزار روپے خرچ ہو چکے ہیں۔دستاویز کے مطابق کابینہ ڈویژن کے لیے ابتدائی طور پر 4 ارب 21 کروڑ 59 لاکھ 71 ہزار روپے کا بجٹ مختص کیا گیا تھا جو بعد ازاں بڑھ کر 5 ارب 1 کروڑ 30 لاکھ 71 ہزار روپے ہو گیا،
جبکہ اب تک 2 ارب 12 کروڑ 45 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کے تحت مختلف اداروں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے، جن میں کابینہ ڈویژن سیکرٹریٹ کے لیے 24 کروڑ 73 لاکھ 59 ہزار روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 13 کروڑ 13 لاکھ 57 ہزار روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سنٹرل پول آف کارز کے لیے 53 کروڑ 5 لاکھ 3 ہزار روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 26 کروڑ 84 لاکھ 61 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔اسی طرح اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے لیے 6 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 41 لاکھ 71 ہزار روپے خرچ کیے گئے، جبکہ انسٹیٹیوشنل ریفارمز سیل کے لیے 7 کروڑ 80 لاکھ روپے کے بجٹ میں سے 2 کروڑ 21 لاکھ 74 ہزار روپے استعمال ہوئے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کے لیے 26 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 13 کروڑ 30 لاکھ 69 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔دستاویز کے مطابق پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے کے بجٹ میں سے 14 کروڑ 92 لاکھ ایک ہزار روپے خرچ کیے گئے، جبکہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے لیے مختص 5 کروڑ 36 لاکھ روپے میں سے 4 کروڑ 42 لاکھ 73 ہزار روپے استعمال ہوئے۔
اسی طرح ڈیپارٹمنٹ آف کمیونیکیشن سیکیورٹی کے لیے 35 کروڑ روپے کے بجٹ میں سے 16 کروڑ 20 لاکھ 17 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔دستاویز کے مطابق ایمرجنسی ریلیف اینڈ ریپیٹری ایشن کے لیے 2 ارب 92 کروڑ 68 لاکھ 14 ہزار روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا، جس میں سے اب تک 2 ارب 49 کروڑ 62 لاکھ 42 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس مد میں ریلیف اقدامات کے لیے 23 کروڑ 55 لاکھ 76 ہزار 4 سو روپے جبکہ ایمرجنسی ریلیف سیل (6 ایوی ایشن اسکواڈرن) کے لیے 3 کروڑ 67 لاکھ 21 ہزار روپے مختص کیے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق کابینہ ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے لیے مجموعی طور پر 7 ارب 83 کروڑ 15 لاکھ 12 ہزار روپے کا ابتدائی بجٹ مختص کیا گیا تھا جو بعد ازاں بڑھ کر 8 ارب 62 کروڑ 86 لاکھ 12 ہزار روپے ہو گیا، جبکہ 25 مارچ 2026 تک مجموعی طور پر 5 ارب 2 کروڑ 80 لاکھ 8 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق مالی سال کے اختتام تک مختلف مدات میں فنڈز کے استعمال کا عمل جاری رہے گا۔
مزید پڑھیں :ایرانی پاسداران انقلاب کا بڑ ا اعلان، امریکہ،اسرائیل کے چھکے چھوٹ گئے،جا نئے کیا















