اہم خبریں

ای چالان فراڈ پکڑا گیا،لاکھوں کی ہیرا پھیری،نوسر باز بے لگام، متعلقہ حکام لاچار،سائبر ونگ کیلئے چیلنج

اسلام آباد ،راولپنڈی (عزیر احمد خان        )اسلام آباد ،راولپنڈی سیف سٹی اتھارٹی کے نام پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں جعلی ای چالان بھیجنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دے کر رقم بٹورنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق شہریوں کو موبائل فون پر ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایسے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں خود کو سیف سٹی کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے ٹریفک خلاف ورزی کا جعلی چالان بھیجا جاتا ہے۔ ان پیغامات میں ایک لنک بھی شامل ہوتا ہے جس پر کلک کرنے سے شہریوں سے آن لائن ادائیگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد،راولپنڈی سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے بھیجے جانے والے ای چالانز میں کسی غیر مصدقہ لنک کے ذریعے فوری ادائیگی کی ہدایت نہیں دی جاتی۔ شہریوں کو صرف سرکاری ویب سائٹ یا مستند ذرائع کے ذریعے ہی چالان کی ادائیگی کرنے کا کہا جاتا ہے۔ اے بی این ڈیجیٹل کی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہےکہ اس وقت ایک منظم گروہ اس جعل سازی میں ملوث ہے،نیز ایسے جعلی چالان اور بھی شہریوں کو موصول ہو ئے حتیٰ کہ پہولیس اہلکار بھی اس سے محفوظ نہ رہے،ساد کوح شہریوں کو لوٹنے والے اس گروہ کی گرفتاری بہت لازمی ہے

مبینہ طور پر یہ ایک منظم فراڈ نیٹ ورک ہو سکتا ہے جو شہریوں کی ذاتی معلومات اور بینکنگ تفصیلات حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ اس حوالے سے تحقیقات بہت ضروری ہیں کہ مشتبہ نمبرز اور لنکس کو ٹریس کیا جا ئے۔ اصل ای چالان کی ادائیگی سے پہلے تصدیق انتہائی ضروری ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ایس ایم ایس میں موجود لنک پر ہرگز بھروسہ نہ کریں بلکہ اپنے علاقے کی سرکاری ویب سائٹ کے ذریعے چالان کی حیثیت ضرور چیک کریں۔ مستند اداروں کے پیغامات مخصوص سرکاری نمبرز سے آتے ہیں، اس لیے اگر کسی اور نمبر سے چالان موصول ہو تو محتاط رہیں۔

مزید یہ کہ چالان کے ساتھ دی گئی تصویر کا بغور جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ اگر تصویر میں گاڑی کا ماڈل مختلف ہو، نمبر پلیٹ واضح نہ ہو یا کسی اور گاڑی پر آپ کا نمبر نظر آئے تو یہ جعلی یا تکنیکی غلطی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مشکوک لنکس اکثر غیر سرکاری ویب سائٹس پر لے جاتے ہیں، جن کا مقصد صرف شہریوں کی معلومات اور رقم حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اگر کسی شہری کو غلط یا جعلی چالان موصول ہو تو وہ آن لائن پورٹل کے ذریعے اپنی گاڑی یا شناختی کارڈ نمبر درج کر کے تفصیلات چیک کر سکتا ہے اور اعتراض بھی درج کرا سکتا ہے۔ کراچی اور سندھ میں شہری اپنے قریبی ٹریفک سہولت مراکز جا کر دستاویزات کے ساتھ چالان کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔ اگر نمبر پلیٹ کلون ہونے کا معاملہ ہو تو فوری طور پر قریبی تھانے میں مقدمہ درج کروانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کسی قانونی مسئلے سے بچا جا سکے۔حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی شہری کو مشکوک لنک کے ذریعے رقم مانگی جائے تو اس کی اطلاع فوری طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ کے سائبر کرائم ونگ کو دی جائے تاکہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق اگر کوئی شہری دھوکہ دہی کا شکار ہو جائے تو فوری اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں، اگر غلطی سے کوئی ایپ یا فائل ڈاؤن لوڈ ہو جائے تو اسے فوراً ڈیلیٹ کریں، اور اگر بینکنگ معلومات شیئر ہو چکی ہوں تو فوری طور پر اپنے بینک سے رابطہ کر کے اکاؤنٹ یا کارڈ بلاک کروائیں۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہےتصدیق کے بغیر ادائیگی نہ کریں اور اپنے دوستوں اور اہل خانہ کو بھی اس فراڈ کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ محفوظ رہ سکیں۔

مزید پڑھیں :ٹرمپ نے ہار مان لی،جنگ ختم کرنے پر آمادہ،معاونین کو بتا دیا،جا نئے تفصیل

متعلقہ خبریں