پشاور ( اے بی این نیوز )خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کے پی کے ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی تحریک انصاف کے بیٹے کی حالیہ گفتگو کو وفاقی حکومت نے بلاوجہ متنازع بنا دیا اور اسے غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کا اردو ترجمہ بھی کروایا گیا تاکہ اصل حقیقت سامنے آ سکے، کیونکہ یہ صرف ایک بیٹے کے جذبات کا اظہار تھا جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو جی ایس پی پلس جیسے اہم معاہدے کے ساتھ جوڑنا غلط بیانی ہے، کیونکہ یہ معاہدہ یورپی یونین کے ساتھ باقاعدہ اصولوں کے تحت طے پایا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بعض حلقے اس معاملے کو جان بوجھ کر بڑھا رہے ہیں۔سہیل آفریدی نے 8 فروری کے انتخابات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ووٹ چوری کیے گئے اور یہ جمہوریت پر حملہ تھا۔ ان کے مطابق عوام نے واضح مینڈیٹ دیا لیکن اس کے باوجود دیگر علاقوں میں حکومت مسلط کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو جی ایس پی پلس سے نکالا گیا تو اس کی ذمہ داری موجودہ وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں سے ملک میں جمہوری آزادیوں اور بنیادی حقوق پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف افراد کو دباؤ کا سامنا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں آئینی اور بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں :ایران نے سعودی عرب پر حملے میں اہم امریکی سرویلنس طیارہ تباہ کر دیا،اربوں کا نقصان














