اہم خبریں

فضیلہ عباسی منی لانڈرنگ کیس ، بڑے انکشافات، لاکھوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کا دعویٰ

اسلام آباد(اے بی این نیوز) ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحقیقاتی دستاویزات میں مالی بے ضابطگیوں اور مشکوک ٹرانزیکشنز سے متعلق کئی نئے انکشافات کیے گئے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ عباسی نے اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ مل کر جوائنٹ بینک اکاؤنٹس کھول رکھے تھے، جن کے ذریعے مختلف مالی لین دین کیا گیا۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے لاکھوں ڈالرز اور درہم بیرون ملک منتقل کیے گئے، تاہم یہ رقوم متعلقہ اداروں خصوصاً ایف بی آر کی نظر سے اوجھل رہیں۔

مزید تفصیلات کے مطابق صرف تین بینک اکاؤنٹس کو ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیا گیا، جن میں بھی متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً دو لاکھ ڈالر کی رسیدیں ڈرائیور اور قریبی دوستوں کے نام پر ظاہر کی گئیں، جس سے ٹرانزیکشنز کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق ملزمہ لاکھوں ڈالر کی منتقلی سے متعلق واضح تفصیلات یا مستند ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ ان مالی لین دین کے حوالے سے کوئی قابلِ قبول رسید یا ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے دی گئی وضاحت کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

ایف آئی اے کے مطابق ٹیکس گوشواروں میں ان رقوم کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ سے ملزمہ کا مؤقف قانون کی نظر میں ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔ تحقیقات کے دوران کئی کاروباری کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے، تاہم آمدن اور ٹیکس ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ ثابت ہوا کہ ان کمپنیوں کا براہ راست تعلق ڈاکٹر فضیلہ عباسی سے نہیں تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 13 لاکھ ڈالر سے زائد رقم کی بیرون ملک منتقلی کی گئی، جس کی بروقت نشاندہی نہ ہونے پر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔

مزید پڑھیں :پٹرول سستا ملے گا،حکومت کی نئی سکیم، جا نئے کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے

متعلقہ خبریں