واشنگٹن( اے بی این نیوز )امریکا نے ایران سے متعلق ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی محدود اجازت دے دی ہے، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئے لائسنس کے تحت جہازوں پر پہلے سے لوڈ تیل کی فروخت کی اجازت ہوگی اور یہ لائسنس ایک ماہ تک مؤثر رہے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عالمی مارکیٹ میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس فروخت کے لیے اضافی تیل موجود نہیں، اور امریکا کا یہ قدم دراصل عالمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ایک نفسیاتی حربہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے دیگر آپشنز بھی زیر غور ہیں، جن میں تیل تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنا اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کو قبضے میں لینا شامل ہے۔
مزید پڑھیں :بانی پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا: پرویز الہٰی















