اہم خبریں

ایران کے جوہری پروگرام کا بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے،رافیل گروسی

نیویارک (اے بی این نیوز    ) انٹرنیشنل ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود سفارتی راستہ ہی مسئلے کا دیرپا حل ہو سکتا ہے۔رافیل گروسی کے مطابق اگر جاری جنگی صورتحال ختم بھی ہو جاتی ہے تو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کئی بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بمباری کے نتیجے میں ملبے تلے دبے افزودہ یورینیم کے ذخائر ایک سنگین چیلنج بن سکتے ہیں، جنہیں محفوظ طریقے سے سنبھالنا انتہائی مشکل ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ حملوں کا براہ راست ہدف ایران کی تمام ایٹمی تنصیبات نہیں تھیں، اور ایران کے جوہری پروگرام کا ایک بڑا حصہ اب بھی محفوظ ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ٹیکنالوجی، مہارت اور صنعتی صلاحیت موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنے پروگرام کو جاری رکھ سکتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کو کنٹرول اور محفوظ رکھنا ایک پیچیدہ معاملہ ہے، جس کے لیے فوری توجہ اور عالمی تعاون درکار ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بمباری کا سلسلہ روکا جائے اور فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپسی کی جائے۔ ان کے مطابق یہی واحد راستہ ہے جو خطے میں استحکام لا سکتا ہے اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کو کم کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،جا نئے کتنا مہنگی ہونے جا رہی ہیں

متعلقہ خبریں