تہران (اے بی این ) آبنائے ہرمز کی جزوی بندش کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ دیگر ممالک کے بحری جہاز اس اہم سمندری راستے کے کھلنے کے منتظر ہیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً ایک ہزار کے قریب بحری جہاز آبنائے ہرمز کے اطراف میں رکے ہوئے ہیں جن میں 200 کے قریب آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں۔ یہ جہاز اس اہم گزرگاہ کے مکمل طور پر کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکیں۔
اطلاعات کے مطابق اس وقت آبنائے ہرمز سے صرف ایرانی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جس کے باعث ایران کی تیل برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی سپلائی چین اور توانائی کی مارکیٹ پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی شپنگ کمپنیاں اور توانائی کے ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں :جنگ کے بعد پاکستان اور ترکی مسلم دنیا کی قیادت کریں گے، پنڈت ڈاکٹر کاشی ناتھ مشرا کی پیشین گوئی















