واشنگٹن ( اے بی این نیوز ) ایک انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ایران کی کچھ نہ کچھ مدد کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے باوجود امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کا ایران سے یورینیم قبضے میں لینے کے لیے کوئی براہِ راست آپریشن کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکہ مختلف سفارتی اور دفاعی آپشنز پر غور کر رہا ہے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاعی معاملات پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو ڈرون حملوں سے بچاؤ کے لیے یوکرین کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور امریکی دفاعی نظام اس حوالے سے کافی مضبوط ہے۔
مزید پڑھیں :غیر معمولی صورتحال ،اسلام آباد ایئر پورٹ کو پروزاوں کیلئے بند کر دیا گیا















