تل ابیب ( اے بی این نیوز )اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن کیسز میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیج دیا ہے تاکہ وہ صدارتی دفتر میں باضابطہ کارروائی مکمل کریں۔
پارڈن ڈپارٹمنٹ کے مطابق نیتن یاہو کی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اُتری، کیونکہ درخواست میں نہ جرم کا اعتراف شامل تھا اور نہ پچھتاوے کا اظہار، جو قبل از وقت معافی کے لیے اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ اسرائیل کی ہائی کورٹ نے قبل از وقت معافی کے لیے جرم کا اعتراف لازمی قرار دیا ہے۔
اس سے پہلے نیتن یاہو پر 2019 میں رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور اگلے سال سے تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ پانچ سال تک مختلف سماعتوں میں شواہد پیش کیے گئے مگر نیتن یاہو نے ان الزامات سے انکار کیا۔ 2025 میں انہوں نے صدارتی معافی کی درخواست دائر کی تھی، جس پر ملک بھر میں متضاد رائے سامنے آئی تھی۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی خبریں سامنے آئیں مگر حتمی فیصلہ صدر ہرزوگ پر ہے۔
مزید پڑھیں :پٹرول سستا ہوگا،بڑا اعلان سامنے آگیا،جا نئے تفصیل















