تہران ( اے بی این نیوز ) ایران جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں تجارتی اور تیل بردار جہازوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی آ گئی ہے۔ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم اس گزرگاہ میں پیش آنے والے واقعات نے توانائی کی عالمی منڈی اور بحری سلامتی کے بارے میں شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اٹھائیس فروری کے بعد خلیج اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں کئی تیل بردار اور مال بردار جہاز نشانہ بنے ہیں۔
ایرانی پاسداران انقلاب پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز خطرے میں ہو سکتے ہیں۔ یکم مارچ کو اس کشیدگی کی پہلی بڑی لہر سامنے آئی جب عمان کے ساحل کے قریب مارشل آئی لینڈ کے پرچم والے ایک تیل بردار جہاز پر حملہ ہوا جس میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔ اسی روز ایک اور ایندھن بردار جہاز کو بھی راس الخیمہ کے قریب نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی تاہم بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ اسی دن آبنائے ہرمز میں ایک اور ٹینکر پر بھی حملہ ہوا جس کے بعد عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
دو مارچ کو بحرین کی بندرگاہ کے قریب ایک جہاز کو گولے لگنے سے آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا۔ تین مارچ کو فجیرہ کے قریب دو مزید جہازوں کو معمولی نقصان پہنچا جس سے بحری کمپنیوں میں تشویش مزید بڑھ گئی۔چار مارچ کو ایک کنٹینر جہاز کے انجن روم میں آگ لگنے کے باعث عملے کو جہاز چھوڑنا پڑا جبکہ پانچ مارچ کو عراق کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز دھماکے سے متاثر ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس حملے میں بارود سے بھری ریموٹ کنٹرول کشتی استعمال کی گئی تھی۔ چھ مارچ کو اسی علاقے میں ایک ٹگ بوٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سات مارچ کو سعودی عرب کے ساحل کے قریب ممکنہ ڈرون حملے کی اطلاع سامنے آئی جس کے بعد حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے۔ گیارہ مارچ کو ایک اور جہاز پر حملہ ہوا جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی جبکہ جاپان کے ایک کنٹینر جہاز کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔ اسی روز دبئی کے شمال مغرب میں ایک اور جہاز متاثر ہوا تاہم اس کا عملہ محفوظ رہا۔اسی دوران عراق کے قریب دو ایندھن بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے بعد حفاظتی خدشات کے پیش نظر عراقی تیل بندرگاہوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر روک دی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز, خلیج میں جہازوں پر حملے, ایران اسرائیل جنگ, عالمی تیل تجارت, بحری سلامتی بحران, خلیج کشیدگی, تیل بردار جہاز, عالمی توانائی بحران, سمندری تجارت خطرات, مشرق وسطیٰ کشیدگی















