اہم خبریں

ایران کے نا قابل یقین حملے،امریکہ بوکھلا اٹھا، ًٰمیدان سے فرار،عالمی برادری سے جنگ رکوانے کا مطالبہ کر دیا

نیو یارک (اے بی این نیوز    )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا کے نمائندے نے ایران پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران مسلسل مختلف ممالک میں شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کے حملوں سے خطے میں صورتحال مزید خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔امریکی نمائندے نے اجلاس کے دوران کہا کہ سلامتی کونسل ایرانی حملوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور عالمی برادری کو اس صورتحال پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق دنیا کے ایک سو پینتیس ممالک ایران کے ان حملوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور اسے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکا کے نمائندے نے کہا کہ ایران کے حملے صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہے بلکہ متعدد شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں ایک ہوٹل پر حملہ کیا گیا جبکہ وہ کسی بھی طرح امریکی فوجی اڈا نہیں تھا۔ اسی طرح دبئی کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی نشانہ بنایا گیا جو عالمی معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
امریکی نمائندے کے مطابق ایران نے خلیجی خطے کے کئی ممالک میں شہری مقامات کو نشانہ بنایا ہے جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا جو کسی فوجی تنصیب کا حصہ نہیں تھی۔اجلاس کے دوران امریکی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ ایران کارگو جہازوں پر حملے کر رہا ہے جو مختلف ممالک تک خوراک اور ضروری سامان کی ترسیل کرتے ہیں، جس سے عالمی تجارت اور انسانی امداد کی سرگرمیوں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔
انہوں نے ایران پر الزام عائد کیا کہ سلامتی کونسل میں ایرانی نمائندہ اور اس کے اتحادی ممالک ہمیشہ حقیقت کے برعکس بات کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ حملے صرف امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے ہیں۔ امریکی نمائندے کے مطابق زمینی حقائق اس دعوے کی تردید کرتے ہیں کیونکہ متعدد شہری مقامات کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔امریکی نمائندے نے مزید کہا کہ ایران کے حملوں کا دائرہ کئی دیگر ممالک تک بھی پھیل چکا ہے اور قطر، عمان، آذربائجان، اردن، ترکیہ اور عراق میں بھی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
اجلاس میں امریکی نمائندے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ایران کے حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام دنیا کے لیے ایک ممکنہ جوہری تباہی ثابت ہو سکتا ہے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
امریکی نمائندے نے ایران کی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے ہی ملک میں سخت کارروائیاں اور تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق اگر عالمی برادری نے بروقت اقدامات نہ کیے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں :ایران کے صدر کا اہم بیان،جنگ کے خاتمہ کا واحد راستہ بتا دیا،جا نئے تفصیل

متعلقہ خبریں