اہم خبریں

اسرائیل کا انتہائی اقدام،اسلامی دنیا متحد ہو گئی، شدید ردعمل سامنے آگیا،جا نئے تفصیل

اسلام آباد (اے بی این نیوز    )رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند کیے جانے کے بعد اسلامی دنیا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور متعدد مسلم ممالک نے اس اقدام کو انتہائی افسوسناک اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ مختلف اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے اور یہاں عبادت پر کسی بھی قسم کی پابندی ناقابل قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ کے دروازے بند کرنے کے اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں داخلے سے روکنا نہ صرف مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اقدام کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد پابندیاں بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مسجدِ اقصیٰ اور حرم شریف میں ہونے والے اشتعال انگیز اقدامات کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے اور یہ علاقے بین الاقوامی قوانین کے تحت متنازع حیثیت رکھتے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا ایک سو چوالیس ڈونم رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اس کی مذہبی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مسجدِ اقصیٰ کے انتظامی امور اردن کے محکمہ اوقاف کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور اس انتظامی نظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت عالمی معاہدوں اور تاریخی اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی ہے۔

وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مسجدِ اقصیٰ کے دروازے کھولے، عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو آزادانہ طور پر عبادت کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنا نہ صرف مذہبی آزادی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ یہ پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کی بے حرمتی فوری طور پر بند کی جائے اور یروشلم کے مقدس مقامات کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کا مکمل احترام کیا جائے۔

وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مسجدِ اقصیٰ میں عبادت کے حق پر کسی بھی قسم کی پابندی کو ہر سطح پر مسترد کیا جائے گا اور مقدس مقامات کے تقدس کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

مزید پڑھیں :آبنائے ہرمزاپ ڈیٹ ، تین بحری جہازوں پر بڑا حملہ،جا نئے تفصیلات

متعلقہ خبریں