اسلام آباد ( اے بی این نیوز )اسلام آباد میں شہریوں کی سہولت اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں پر نصب کیے جانے والے ایم ٹیگ کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک نئی چپ تیار کی جا رہی ہے جو موجودہ چپ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور بہتر خصوصیات کی حامل ہوگی۔ نئی چپ تیار ہونے کے بعد اسے شہریوں کو بغیر کسی فیس کے فراہم کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سسٹم سے فائدہ اٹھا سکیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے بتایا کہ موٹر سائیکلوں پر لگایا جانے والا ایم ٹیگ اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اگر اسے اتارا جائے تو وہ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ خدشہ کم ہو جاتا ہے کہ کسی ایک موٹر سائیکل کا ایم ٹیگ دوسری موٹر سائیکل پر استعمال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شہری کا ایم ٹیگ چوری ہو جائے تو وہ فوری طور پر ہیلپ لائن پر اطلاع دے، جس کے بعد متعلقہ ٹیگ کو فوراً بلاک کر دیا جائے گا اور شہری کو نیا ایم ٹیگ بغیر کسی چارج کے فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ٹیگ میں سکیورٹی اور سیفٹی کے حوالے سے مختلف جدید فیچرز شامل کیے گئے ہیں جن کا مقصد شہر میں نقل و حرکت کی بہتر نگرانی اور جرائم کی روک تھام ہے۔ اسی سلسلے میں شہر کی تمام مساجد اور امام بارگاہوں پر بھی سکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے گئے ہیں جبکہ انتظامی افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مسلسل فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کریں۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے رجسٹریشن کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ حکام کے مطابق اب تک انیس ہزار سے زائد ٹیکسیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے۔ اس نظام کے تحت ڈرائیورز کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ہر سواری کے بارے میں بنیادی معلومات اور سفر کی تفصیلات سسٹم میں اپلوڈ کریں، جس میں یہ معلومات شامل ہوں گی کہ سواری کو کہاں سے اٹھایا گیا اور کہاں اتارا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ممالک میں بغیر لائسنس ٹیکسی چلانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اسی طرز پر اسلام آباد میں بھی ٹیکسیوں کی رجسٹریشن کو باقاعدہ سکیورٹی میکانزم کے تحت منظم کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور قابل اعتماد سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نظم و ضبط پیدا ہوگا بلکہ شہر میں سکیورٹی کے نظام کو بھی مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔















