قطر (اے بی این نیوز )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران قطر نے ایران اور امریکہ سے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کر دی ہے۔ قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور محمد بن عبدالعزیز الخلیفی نے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ حملے کسی بھی فریق کے لیے فائدہ مند نہیں اور اس تنازعے کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں۔
ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی تقریباً دو ہفتوں سے جاری بمباری کے جواب میں ایران نے خلیجی علاقے سمیت دیگر مقامات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جس سے اہم بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور خطے کی توانائی پر مبنی معیشت بھی متاثر ہوئی۔
قطری وزیر کے مطابق بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر پر حملے تشویشناک ہیں اور یہ صورتحال پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اپنی خودمختاری کو متاثر کرنے والے کسی بھی حملے کی مذمت کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کے لیے قانونی اقدامات بھی جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ جنگ صرف خطے کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکی ہے کیونکہ اس کے اثرات عالمی توانائی کی ترسیل پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں بے چینی پائی جا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اس تنازعے کے حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔
قطری وزیر نے یہ بھی بتایا کہ ماضی میں قطر اور عمان نے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ کشیدگی کم ہو سکے، تاہم موجودہ حالات میں جب حملے جاری ہیں تو کسی بھی ملک کے لیے مؤثر ثالثی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خطے کے ممالک ان کے دشمن نہیں ہیں بلکہ سب خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں۔
قطر ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور حالیہ دنوں میں قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی نے ایرانی حکام سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران اس صورتحال پر بات کی اور ہمسایہ ممالک پر حملے روکنے پر زور دیا۔ اسی طرح امریکہ سے بھی رابطے جاری ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جا رہی ہیں۔
قطری قیادت نے امید ظاہر کی ہے کہ تمام فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے اور جلد یا بدیر فوجی کارروائیاں روک کر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں گے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بیان کے بعد خطے کی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر بھرپور بحث جاری ہے۔
قطر, مشرق_وسطیٰ, ایران_امریکہ_کشیدگی, عالمی_سیاست, سفارتکاری, آبنائے_ہرمز, توانائی_مارکیٹ, جنگ_اور_امن, عالمی_خبریں, سوشل_میڈیا_بحث
مزید پڑھیں :آئی سی سی نے مینز ٹی ٹوئنٹی پلیئرز رینکنگ جاری کر دی،بھارت کا انوکھا ریکارڈ















