اہم خبریں

ایران کے نئے سپریم راہنما کا خوف،اسرائیل حواس کھو بیٹھا،ایرانی عوام سے حمایت کی بھیک مانگ لی

یروشلم ( اے بی این نیوز   )یروشلم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ گڈعون ساعر نے کہا کہ ایران میں موجودہ قیادت کے ساتھ خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، اس لیے ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے حالات پیدا ہونا ضروری ہیں۔جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈیفول کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے پیش رو سے کسی طرح کم سخت مؤقف نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران سے لاحق طویل المدتی سکیورٹی خطرات کا خاتمہ ہے، تاہم موجودہ ایرانی نظام کے ہوتے ہوئے اس مقصد کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی کے لیے ایرانی عوام کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ ان کے بقول اگر عوام کی شمولیت نہ ہو تو نظام کی تبدیلی ممکن نہیں، جبکہ بیرونی حمایت کے بغیر عوام کے لیے موجودہ نظام سے آزادی حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی حکومت اور اقوام متحدہ کی امن فورس حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں ناکام رہی ہیں، جس کے باعث اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جوہری سرگرمیاں روکنے سے انکار کیا ہے اور اسرائیل کو خطے میں سنگین سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔تاہم ایران بار بار اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی جوہری نگران ادارے کے سربراہ رافائل گروسی بھی حالیہ دنوں میں کہہ چکے ہیں کہ اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے ثابت ہو کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں :ایران فاتح ،اسرائیل نےگھٹنے ٹیک دیئے، طویل جنگ سے فرار

متعلقہ خبریں