پشاور ( اے بی این نیوز )خیبر پختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی مدت میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس حوالے سے صوبائی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ بلدیاتی نمائندوں کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔صوبائی اسمبلی میں ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے مدت میں توسیع کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم کمیٹی نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق آئین اور موجودہ قوانین کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت میں توسیع کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کی مدت مقررہ وقت کے بعد بڑھانا قانونی طور پر ممکن نہیں۔ اس لیے موجودہ قانون کے تحت ان اداروں کی مدت پوری ہونے پر انہیں ختم ہونا ہوگا اور آئندہ کے نظام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی ہے کہ صوبے میں ڈسٹرکٹ ٹئیر کے نظام کو دوبارہ بحال کیا جائے اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ضروری ترامیم کی جائیں تاکہ بلدیاتی نظام کو زیادہ مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔
کمیٹی کے مطابق بلدیاتی نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں اور جمہوری اصولوں کے تحت ان کی مدت مقرر ہوتی ہے، اس لیے مدت میں توسیع کو مناسب نہیں سمجھا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کو حالات اور ضروریات کے مطابق آئندہ فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں یہ رپورٹ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کو پیش کر دی گئی۔ اجلاس میں کنوینر نذیر احمد عباسی نے بلدیاتی اداروں کی مدت سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ بھی شامل تھا۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ بلدیاتی نظام کی مدت 15 مارچ کو مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد صوبے میں بلدیاتی نظام کے نئے ڈھانچے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں :امریکہ ایران جنگ،سعودی عرب کا اہم اعلان سامنے آگیا ،جا نئے کیا















