لاہور ( اے بی این نیوز )پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے کے بعد طلبہ کو ریلیف دینے کے لیے ایک نئی تجویز سامنے آگئی ہے سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ابراہیم مراد نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ طلبہ کے لیے خصوصی “فیول کارڈ” سسٹم متعارف کروایا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی ایندھن قیمتوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے کے نمایاں اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی اور سفری اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس صورتحال میں تعلیمی اداروں تک روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں طلبہ شدید متاثر ہو رہے ہیں، خصوصاً وہ طلبہ جو موٹر سائیکل کے ذریعے کالج یا یونیورسٹی جاتے ہیں۔
سابق وزیر کی تجویز کے مطابق ایک خصوصی فیول کارڈ جاری کیا جائے جس کے ذریعے ہر طالب علم کو ماہانہ بنیادوں پر 10 لیٹر سبسڈائزڈ یعنی سستا پیٹرول فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے طلبہ کے سفری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور وہ بغیر مالی دباؤ کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے۔
اس پروگرام پر حکومت کو ماہانہ تقریباً 10 ارب روپے خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں، تاہم اس سے صوبے بھر کے لاکھوں طلبہ براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اسکیم مؤثر انداز میں شروع کی جائے تو یہ نوجوانوں کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے طلبہ کے لیے تعلیمی اداروں تک پہنچنا پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ بہت سے طلبہ روزانہ طویل فاصلے طے کرتے ہیں اور سفری اخراجات بڑھنے سے ان کے لیے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکلیں موجود ہیں جن میں سے بڑی تعداد طلبہ استعمال کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر تجویز دی گئی ہے کہ ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے فیول کارڈ اسکیم شروع کی جائے تاکہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر اسے مزید توسیع دی جا سکے۔
مزید پڑھیں :امریکہ ایران جنگ بندی کی جانب پیش رفت،ٹرمپ کا بڑا بیان سامنے آگیا















