اہم خبریں

ایران کا نیا سپریم راہنما،چین کا امریکہ کو منہ توڑ جواب،جا نئے کیا

بیجنگ (اے بی این نیوز       )چین نے ایران کی قیادت سے متعلق امریکی بیانات اور دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قابل قبول نہیں۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے بیجنگ میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران میں نئے سپریم لیڈر کے تقرر سے متعلق فیصلہ ایران کے آئین کے مطابق کیا گیا ہے اور عالمی برادری کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چین اصولی طور پر کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔ ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جنگ بندی اور سفارتی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کی مجلس خبرگان قیادت نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ اس پیش رفت کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے امریکی منظوری کے بغیر نیا رہنما منتخب کیا تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے 2019 میں مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں عائد کی تھیں اور انہیں ان افراد میں شامل قرار دیا تھا جو سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو علی خامنہ ای ایک مشترکہ فضائی حملے میں مارے گئے تھے جس کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر عائد کیا گیا تھا۔پریس بریفنگ کے دوران چین نے یورپی اور روسی معاملات پر بھی ردعمل دیا۔ چینی ترجمان نے یورپی رہنما مارگس ساہکنا کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بیشتر اتحادی یا تو جیل میں ہیں یا جہنم میں۔ادھر چین نے تائیوان کے رہنماؤں کی سرگرمیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے علیحدگی پسند اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیا۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب تائیوان کے وزیر اعظم چو جنگ تائی نے جاپان کا دورہ کیا اور ٹوکیو میں ہونے والے عالمی باسکٹ بال مقابلے میں شرکت کی۔چین نے جاپان کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر آبنائے تائیوان میں بحران پیدا ہوا تو جاپان اجتماعی دفاع کے حق کو استعمال کر سکتا ہے۔ بیجنگ نے اسے اپنی خودمختاری کے لیے چیلنج قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جاپان کو عسکریت پسندی کے راستے سے گریز کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں :امریکہ کی مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی کوشش نا کام،یو اے ای کا کڑا کے دار جواب

متعلقہ خبریں