تہران (اے بی این نیوز) امریکا اور اسرائیل نے تہران میں آئل ڈپو پر حملہ کیا جس سے تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی، آگ کے باعث تیل سڑکوں پر بھی پھیلتا ہوا دیکھا گیا۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد تباہ ہونے والے آئل ڈپو سے بہنے والا تیل شہر کے سیوریج سسٹم میں داخل ہو گیا جس کے نتیجے میں سڑکوں کے اطراف میں آگ بھڑک اٹھی اور مقامی طور پر اسے ’آگ کا دریا‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں شہر کی ایک سڑک کے کنارے لگاتار آگ کے شعلے بھڑکتے نظر آ رہے ہیں۔
حکام کے مطابق تیل کا بہاؤ گٹر لائنوں میں داخل ہوا جس سے بعض علاقوں میں آگ لگ گئی جس سے شہری انفراسٹرکچر اور ماحولیات کو مزید خطرات لاحق ہو گئے۔
Spill of oil in the sewage system has created a flowing burning river in parts of #Tehran after oil depots were bombed earlier tonight, setting the streets in the Iranian capital on fire. pic.twitter.com/tHIFE6Z5EW
— Living in Tehran (LiT) (@LivinginTehran) March 8, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کے رساؤ پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو آگ مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے اور شہری آبادی کو زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
قبل ازیں ایرانی وزارت تیل نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی حملوں میں تین مختلف مقامات پر واقع ایندھن ذخیرہ کرنے والے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں صوبہ البرز کا ایک صنعتی شہر کیراج بھی شامل تھا۔
دوسری جانب تہران ریفائنری پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل کی حیفا ریفائنری پر حملہ کیا جب کہ ایران کویت ایئرپورٹ پر فیول ٹینکوں پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 200 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بحرین میں بحری اڈے پر 21 امریکی مارے گئے اور ایک امریکی آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں:امریکا کے معاملے پر ایرانی قومی سلامتی کے سربراہ کا بڑا دعویٰ















