تہران (اے بی این نیوز )ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ رہنے والا جنگی بیڑا ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد میدان جنگ سے پیچھے ہٹ گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق حملوں کے فوراً بعد یہ بیڑا تقریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر آیا تھا لیکن بعد میں پانیوں سے دور ہو گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کے ڈرونز نے ابراہم لنکن جہاز کو نشانہ بنایا جس کے بعد یہ بیڑا ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ دوری تک واپس چلا گیا۔
امریکی حکام نے ایران کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی اور پینٹاگون کی طرف سے کہا گیا کہ ابراہم لنکن پر میزائل حملے نہیں ہوئے اور دعوے درست نہیں ہیں۔
یہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے ساتویں روز کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں مختلف علاقوں سے حملوں اور تصادم کے دعووں کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں :ایک لاکھ 30 ہزار مستحق گھرانوں کو سولر یونٹس مفت اور آدھی قیمت پر فراہم کرنے کا اعلان















