تل ابیب(اے بی این نیوز )عراقی کردستان میں کشیدگی میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ایرانی اپوزیشن کے ایک کیمپ پر ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق کیمپ پر دو ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد کیمپ کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی جس پر قابو پانے کے لیے امدادی ٹیموں کو طلب کر لیا گیا۔ فوری طور پر جانی نقصان کے حوالے سے مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں تاہم مقامی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
اسی دوران عراقی کردستان میں ایک اور واقعہ بھی پیش آیا جہاں ایک امریکی کمپنی کے زیر اہتمام چلنے والے آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد آئل فیلڈ میں آگ لگ گئی جس کے باعث توانائی کے اس منصوبے کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
مقامی حکام اور سیکیورٹی ادارے دونوں واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور متاثرہ مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔















