واشنگٹن ( اے بی این نیوز ) ایران کے قریب جاری امریکی آپریشن ’’ایپک فیوری‘‘ کے دوران پہلی بار عملی میدان میں لیزر ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساحل کے قریب تعینات ایک امریکی جنگی بحری جہاز پر نصب بحریہ کا جدید “ہیلیوس” سسٹم انتہائی طاقتور اور مرکوز شعاعوں کے ذریعے فضا میں موجود ایرانی ڈرونز کو نشانہ بنا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ لیزر سسٹم روایتی میزائل دفاعی نظام سے مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔ جیسے ہی سیٹلائٹ سسٹمز کسی میزائل یا ڈرون کے لانچ ہونے کا سراغ لگاتے ہیں، فوری طور پر مربوط دفاعی نیٹ ورک فعال ہو جاتا ہے۔ سائبر ٹیمیں مبینہ طور پر مخالف کے ریڈار نظام کو جام کرتی ہیں جبکہ لیزر ہتھیار چند سیکنڈز میں ہدف کو فضا ہی میں تباہ کر دیتے ہیں۔ اس حکمتِ عملی کے باعث ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کا ملبہ زمین پر نسبتاً کم نقصان کے ساتھ گرتا دکھایا جا رہا ہے۔
خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے جبکہ ایران کی جانب سے اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ دفاعی ٹیکنالوجی، جدید جنگی حکمتِ عملی اور مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی کشیدگی اس وقت عالمی خبروں کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں :ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، انگلینڈ نے ٹاس جیت کر بھارتی ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دے دی















