بیجنگ ( اے بی این نیوز)چین کے معروف جیو پولیٹیکل ماہر پروفیسر جیانگ شوچین کی تیسری پیشگوئی ایک بار پھر موضوعِ گفتگو بنی ہوئی ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکا کو شکست کا سامنا ہو سکتا ہے۔پروفیسر جیانگ نے 2024 میں تین اہم پیشگوئیاں کی تھیں۔ پہلی یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکا کے صدر منتخب ہوں گے، دوسری یہ کہ ان کے دور میں ایران کے ساتھ جنگی کشیدگی بڑھے گی، اور تیسری یہ کہ ایسی جنگ میں امریکا کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ پہلی دو پیشگوئیوں کے درست ثابت ہونے کے بعد ان کی تازہ رائے کو غیر معمولی توجہ مل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے عسکری تجزیے کے مطابق ایران کو کئی اسٹریٹجک برتریاں حاصل ہیں۔ ان کے بقول یہ روایتی جنگ نہیں بلکہ تھکن، وسائل اور نقصان کے تبادلے پر مبنی طویل تنازع ہو سکتا ہے، جس کی تیاری ایران گزشتہ دو دہائیوں سے کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خطے میں ہونے والی محدود جھڑپوں سے سبق سیکھا اور مخالف طاقتوں کی عسکری حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا۔پروفیسر جیانگ کے مطابق ایران کے اتحادی گروپس بھی امریکی حکمت عملی کو سمجھ چکے ہیں اور وہ غیر روایتی جنگی انداز سے دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے میں امریکی اڈے اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہاں رکاوٹ پیدا ہوئی تو تیل کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
پانی کے تحلیل کرنے والے پلانٹس خلیجی ممالک کے لیے زندگی کی لکیر کی حیثیت رکھتے ہیں اور اگر ان پر حملے ہوں تو شہری زندگی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق کم لاگت ڈرون ٹیکنالوجی جدید جنگ کا اہم ہتھیار بن چکی ہے جو مہنگے دفاعی نظام کو چیلنج کر سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ،جا نئے فی یونٹ کتنی مہنگی ہو ئی















