اسلام آباد(رضوان عباسی سے)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں اپنے قونصل خانوں کراچی اور لاہور کو ہنگامی ہدایات جاری کرتے ہوئے غیر ضروری امریکی عملے اور ان کے اہلخانہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی ہے۔
فیصلے کو احتیاطی اقدام قرار دیا گیا ہے تاہم سفارتی حلقوں میں اسے خطے کی بدلتی اسٹریٹیجک فضا میں ایک اہم سفارتی سگنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام موجودہ علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے کے لیے فی الحال ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق کراچی اور لاہور میں قائم امریکی قونصل خانے اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہوں گے اور غیر ضروری عملے کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی سیکیورٹی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور سفری ایڈوائزری اپ ڈیٹ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود تمام غیر ملکی سفارتی مشنز اور تنصیبات کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ حساس مقامات کی نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
سفارتی مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات جنوبی ایشیا تک محسوس کیے جا رہے ہیں اور متعدد ممالک اپنے سفارتی عملے کی سیکیورٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی اقدام فوری طور پر دوطرفہ تعلقات پر منفی اثر انداز ہوتا نظر نہیں آتا، تاہم یہ خطے میں غیر یقینی صورتحال کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
مزید پیش رفت کے لیے امریکی محکمہ خارجہ اور پاکستانی حکام کی جانب سے باضابطہ بیانات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کا وینیو چوتھی بار تبدیل















