لندن ( اے بی این نیوز )برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی غرض سے تہران میں نصب ٹریفک کیمروں کو ہیک کیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے کئی برسوں تک ان کیمروں کی ویڈیوز خفیہ طور پر تل ابیب منتقل کیں تاکہ سپریم لیڈر کی نقل و حرکت، سکیورٹی انتظامات اور روزمرہ معمولات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ بتایا گیا ہے کہ پاستور اسٹریٹ کے اطراف محافظوں اور ڈرائیوروں کی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی۔
اخبار کا کہنا ہے کہ مخصوص کیمروں کے ذریعے کمپاؤنڈ کے اندرونی معمولات، پارکنگ پوائنٹس اور داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کی گئی۔ جدید الگورتھمز کے استعمال سے سکیورٹی اہلکاروں کے اوقات کار، گاڑیوں کی ترتیب اور روٹس کا تجزیہ کیا جاتا رہا۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ سی آئی اے کو مبینہ طور پر ملاقاتوں کے اوقات اور شرکاء سے متعلق پیشگی معلومات حاصل تھیں۔ حملے کے وقت موبائل ٹاورز کی جزوی بندش کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس سے رابطہ کاری متاثر ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں موجود امریکی اڈے ایران کے لیے جائز ہدف ہوسکتے ہیں اور ملک اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا مقصد ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور تیاری کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں :حکومت،اپوزیشن ملاقات، جانئے عمران خان بارے کیا معاملات زیر بحث آئے















