واشنگٹن ( اے بی این )ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں پاسداران انقلاب کی تنصیبات اور ایرانی فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔ امریکی صدر کے مطابق ایران کی ملٹری کمان مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے اور مزید امریکی ہلاکتوں کا امکان بھی موجود ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ 9 بحری جہاز اور ایرانی بحریہ کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ایران کی 48 اہم شخصیات ہلاک ہو چکی ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای سمیت ایران کی پوری اعلیٰ قیادت ماری جا چکی ہے اور ایرانی عوام نے اس پر جشن منایا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے اور ایران کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی رجیم کو کسی صورت جوہری ہتھیار تک رسائی نہیں دی جا سکتی اور اگر پاسداران انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں تو انہیں استثنیٰ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہوگی۔علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صدر نے بتایا کہ سعودی عرب، بحرین، امارات، قطر اور اردن کی قیادت سے بات ہو چکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا سعودی عرب ایرانی حملوں پر کارروائی کرے گا
مزید پڑھیں :تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادار وں میں آج تعطیل کا اعلان















