اسلام آباد(اے بی این نیوز) تمام بڑی عالمی تنظیموں نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا صحافیوں کے تحفظ اور آزادیِ صحافت کا مطالبہ
انسانی حقوق اور صحافت کی آزادی کے لیے کام کرنے والی متعدد عالمی اور ملکی تنظیموں نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک مشترکہ خط لکھ کر پاکستان میں میڈیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
آئینی ترمیم اور عدالتی کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں،خط میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2025 میں ہونے والی 27 ویں آئینی ترمیم اور وفاقی آئینی عدالت (FCC) کے قیام کے بعد سے میڈیا پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تنظیموں نے موقف اختیار کیا کہ عدالتی نگرانی کمزور ہونے سے صحافیوں پر حملوں میں ملوث عناصر کو شہ مل رہی ہے۔
خط میں ارشد شریف شہید اور سہراب برکت کے کیسز کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔
تنظیموں نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ارشد شریف قتل کیس کی ازخود کارروائی ختم کرنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آزاد جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود صحافی سہراب برکت کی 90 روز سے جاری حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خط میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ: صحافی نادر بلوچ سمیت دیگر صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کے خلاف “ٹرانس نیشنل ریپریشن” (بین السرحدی جبر) کا خاتمہ کیا جائے۔پاکستان میں مقیم افغان صحافیوں کو جبری طور پر ڈی پورٹ نہ کیا جائے۔متنازع سائبر کرائم قانون ‘پیکا’ (PECA) میں فوری ترامیم کی جائیں تاکہ اسے صحافیوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کیا جا سکے۔
خط لکھنے والی تنظیموں میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (CPJ)، رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) اور دیگر نامور ادارے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں۔ڈھائی سال میں 20 لاکھ سے زائد افغان شہری وطن واپس، انخلاء کا عمل جاری















