اسلام آباد (اے بی این نیوز )رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ قیدی کو دی جانے والی سہولیات کے حوالے سے نہ حکومت کی جانب سے اور نہ ہی جیل انتظامیہ کی طرف سے کوئی کوتاہی برتی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جیل قوانین کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض باتیں حقائق کے منافی ہیں۔
مشیروزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کے طریقہ کار کے بارے میں باقاعدہ عدالتی حکم موجود ہے اور ہائیکورٹ کی جانب سے ہفتے میں دو ملاقاتوں کی اجازت دی گئی تھی۔ ان کے مطابق فیملی اور وکلا کی ملاقاتوں کے لیے مخصوص دن مقرر ہیں اور یہ تمام عمل جیل رولز کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرنے کی شرط بھی عائد ہے اور جیل کے باہر کسی قسم کا تماشا یا سیاسی مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ قواعد کی خلاف ورزی پر انتظامیہ کی جانب سے وارننگ جاری کی گئی اور ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور جیل رولز پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ سیاسی گفتگو اور جیل قواعد کو الگ رکھا جانا چاہیے، اگر ضابطوں کی خلاف ورزی کی گئی تو انتظامیہ کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ملاقاتوں کو سیاسی بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کرنا قابل قبول نہیں اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کو جیل قواعد کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
رانا ثنا اللہ نے سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ضد اور ہٹ دھرمی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ سوشل میڈیا پر بیانیہ سازی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، اس لیے سیاسی درجہ حرارت کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کرنے والے ارکان کو مکمل سہولیات فراہم کی گئیں اور چار روزہ دھرنے کے دوران کسی بنیادی سہولت کی کمی نہیں تھی۔ ان کے مطابق مذاکرات ہی سیاسی استحکام کا واحد راستہ ہیں اور تمام فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں :ایران کی امریکہ کو بڑی پیشکش















