اسلام آباد (اے بی این نیوز)علی امین گنڈاپور کی ضلع کچہری میں میڈیا سے گفتگو،میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو بانی چیئرمین جیل سے باہر ہوتے ۔قانون و انصاف نہیں ہے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔میں بھی اس چیز کا گناہ گار ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سپورٹ اور شہرت کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں بار بار ۔
یا تو ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا پھر آپس کے اختلاف ہیں۔ایسے کاموں میں لگے ہوئے ہیں جو مقصد سے ہٹ کر ہیں۔ہم بے وقوفی پر لگے ہوئے نادانی میں لگے ہوئے ہیں استعمال ہورہے ہیں جو بھی وجہ ہے۔
نتائج جو بھی وجہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے وہ دیکھنا چاہیے ۔ہمارا ہر کسی کے لیے احترام ہے،جب میرے لیڈر پرسخت وقت ہوگا اسے تکلیف ہوگی۔اس کے لئے میں اگر غصہ میں بات کرتا ہوں تو لوگوں کو برداشت کرنا چاہیے ۔بانی چیئرمین کی رہائی کے لئے کتنی پریشر سے کمپین شروع کی ہوئی تھی ۔
ہم آج ادھر کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ہوش ہے ناخن لینے چاہیے ۔میں جو بھی کر رہا ہوں بانی چیئرمین کے لئے کر رہا ہوں ۔ہماری غلطیاں تو ہیں،بانی پی ٹی آئی معالج کی رسائی مانگ رہا ہے وہ ہم نہیں کر پا رہے ۔پریشر باتوں سے نہیں رویہ سے بنتا ہے،آپ کی طاقت سے بنتا ہے آپ کیا کر سکتے ہیں ۔
ڈائیلاگ ٹک ٹاک بنانے سے فرق پڑتا تو آج یہ حال نہ ہوتا ۔خان صاحب کی رہائی دور کی بات آج معالج بھی نہیں مل رہا ۔میری پہلے بھی خاموش نہیں تھا میں وزیر اعلیٰ تھا ۔اس وقت ایک ورکر ہوں نہ سیاسی کمیٹی کا حصہ ہوں نہ ہی کوئی عہدہ ہے ۔میں اپنے حلقہ میں تھا پاکستان کی سب سے بڑی ریلیاں کر رہا تھا ۔
چیلنج کرتا ہوں میری ریلی سب سے بڑی نہ ہوئی تو کہیں میں خاموش تھا ۔کال دی گئی میں سب سے پہلے آیا کیمرے لگے ہوئے تھے ۔
سب سے زیادہ ایکٹویٹی بھی میں نے کی تھی ۔یہاں آیا ہوں پانچ دنوں میں بارہ گھنٹے نہیں سویا ۔پھر حکم ہوا کہ چلے جاؤ میں کیا کرتا،کوئی وجہ ہے تو ہمارا پریشر کم ہوا اور بانی کو مشکلات ہیں۔پریشر بناو یہ کہنا گناہ ہے تو میں کرونگا ۔
میں جگاونگا ان لوگوں کو مسئلہ حل نہیں ہورہے ہیں۔کوشش تو کرو یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹی وی پروگرام میں بیٹھ جاو۔ ٹک ٹاک بنا میں دھمکی دے دو ایسا نہیں ہوتا ہے ۔ آپ کے عمل سے سارا کچھ ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں۔پاکستان میں سونے کی قیمت میں 7 ہزار 100 روپے کا اضافہ















