اسلام آباد (اے بی این نیوز )پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی جدوجہد جاری رہے گی اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں محاذوں پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد عوامی مینڈیٹ کے دفاع کے لیے قائم ہے اور احتجاج آئینی دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی ہی ملک کو حقیقی استحکام دے سکتی ہے اور پارلیمنٹیرینز کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی نمائندگی کا حق ادا کریں۔ طبی معاملات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ مکمل تشخیص کے لیے مریض تک براہ راست رسائی ضروری ہوتی ہے اور سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ڈاکٹر کو جسمانی رسائی دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود معلومات کی بنیاد پر رائے بھی محدود ہوتی ہے اور جو تفصیلات فراہم کی جائیں، انہی کی حد تک طبی رائے دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قیادت خود اس صورتحال پر تشویش میں ہے کہ فیصلوں کو اوجھل کیوں کیا جا رہا ہے، حالانکہ اہم فیصلے مشاورتی عمل کے بعد کیے جاتے ہیں اور اس میں وقت لگتا ہے۔ اپوزیشن کی تین جماعتوں میں مسلسل مشاورت جاری ہے اور مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ جب کوئی فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر اس پر ثابت قدمی دکھائی جاتی ہے اور گزشتہ چھ دنوں میں اہم تیاری مکمل کی گئی ہے۔ ان کے مطابق آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے معاملات آسان نہیں ہوں گے۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے
بیرسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ محمود اچکزئی پہلے دن سے دھرنے کے مخالف تھے اور ان کی قیادت روایتی سیاست دانوں کی طرح فوری ردعمل نہیں دیتی۔ ہم ابھی دھرنے سے واپس آئے ہیں اور یہ ایک باقاعدہ سیاسی سرگرمی تھی۔ ہر سیاسی فیصلے کے اپنے فائدے اور نقصانات ہوتے ہیں اور کسی بھی اقدام سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کا ماحول اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے اور معاملات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے دھرنے کا کوئی ذاتی کریڈٹ نہیں لیا اور نہ ہی آئندہ ایسا کروں گا۔ جمہوریت میں جماعتیں مل کر اجتماعی فیصلے کرتی ہیں اور انہی کی لاج رکھی گئی۔ دھرنے کے ایک لمحے کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا اور ننانوے فیصد سے زائد پارلیمنٹیرینز، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین کی موجودگی میں دھرنا دیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان وہی مؤقف بیان کر رہے ہیں جو ان کے ساتھ شیئر کیا گیا اور وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں، اسی وژن کو درست سمجھتے ہیں۔
مزید پڑھیں :راولپنڈی سے افسوسناک خبر آگئی، جا نئے کتنی زندگیوں کا نقصان ہوا















