اسلام آباد (اے بی این نیوز )رانا ثنا اللہ نے بتایا ہے کہ حالیہ دھرنے کے دوران چند سیاسی تنازعات پیدا ہوئے، جن پر محسن نقوی اور گنڈا پور کی کوششوں سے معاملہ رفع دفع ہوا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گنڈا پور نے محسن نقوی کی کوششوں کا ذکر ضرور کیا مگر الفاظ کا چناؤ درست نہیں تھا۔ دھرنے کے دوران واپڈا افسر پر حملہ ہوا جس کی وجہ سے کچھ علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی، جس پر وفاقی حکومت نے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق معاملے میں گرفتاریوں کی ضرورت پیش نہیں آئی اور مذاکرات اور یقین دہانی کی بنیاد پر معاملہ ختم کر دیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ہدایت دی گئی کہ رات کو ڈی چوک نہ جائیں اور اگر سنگجانی جا کر بیٹھیں تو بات کی جائے گی۔ اجلاس میں سپیکر اور پارٹی کی دیگر قیادت بھی موجود تھی اور سب متفق تھے۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی نے اس معاملے میں اہم کردار ادا کیا اور اگر یہ معاملہ آگے بڑھتا تو تحریک انصاف کے رہنما ڈیالہ جیل پہنچ جاتے۔ بانی پی ٹی آئی نے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ باہر نہیں آنا چاہتے اور پوری پارٹی کو صحیح وقت پر درست فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ پارٹی کے سربراہ کی قیادت میں آزمائش اور تدبر کا امتحان جاری ہے اور بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں کہ وہ ایک دن بھی جیل میں نہ رہیں۔
دھرنے کے دوران واپڈا افسر پر حملہ ہوا، لوڈ شیڈنگ کی صورتحال پیدا ہوئی۔ وفاقی حکومت نے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا۔ محسن نقوی اور گنڈا پور کے درمیان بات چیت کے بعد معاملہ رفع دفع کیا گیا۔ گرفتاریاں نہیں ہوئیں، معاملہ مذاکرات اور یقین دہانی پر ختم ہوا۔ پی ٹی آئی کو کہا گیا رات ڈی چوک نہ جائیں، سنگجانی جا کر بیٹھیں تو بات کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ پورا ملک انقلاب کے لیے تیار ہے، تاہم لوگوں کو نصیحت کی گئی کہ اسلام آباد اور ڈی چوک نہ جائیں۔ محسن نقوی نے براہ راست بانی پی ٹی آئی کو مشورہ دیا اور ابتدائی طور پر وہ مشورے پر رضامند بھی ہوئے، تاہم بعد میں موقف بدل کر بیک آؤٹ کر لیا۔
مزید پڑھیں :عمران خان کو عدالت یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا















