اسلام آباد (اے بی این نیوز)شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو خطے کا آئی ٹی ہب بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے فروغ کو ناگزیر حیثیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی خصوصاً اے آئی کے شعبے میں عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی دوڑ میں آگے لایا جا سکے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ زراعت، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔
شزا فاطمہ کے مطابق آئندہ پانچ برسوں میں 10 لاکھ افراد کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ری اسکلنگ اور اپ اسکلنگ پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور فری لانسرز و ریموٹ ورکرز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر اس وقت تقریباً 85 فیصد تک نیٹ سرپلس فراہم کر رہا ہے جبکہ 70 فیصد سے زائد گھرانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کی تیز رفتار ترقی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے اور حکومت اس شعبے کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
مزید پڑھیں :رمضان پیکیج کاافتتاح،13ہزار روپے فی خاندان کو ملیں گے،جا نئے کیسے ادائیگی کی جا ئے گی















