اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما بابر اعوان نےکہا کہ بانی کے علاج میں مکمل شفافیت نہیں رکھی جا رہی اور سب کچھ عوام سے چھپایا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ عوام کو یہ نہیں معلوم کہ بیماری کب شروع ہوئی اور کون سا انجیکشن دیا گیا۔ سرجری کے نوٹس اور میڈیکل رپورٹس بھی عوام کے لیے ظاہر نہیں کی گئیں، جو کہ قوم کی امانت ہے۔ بابر اعوان نے زور دیا کہ ہر تفصیل عوام کے سامنے ہونی چاہیے تاکہ عوام بانی کی صحت کے حقائق تک فوری رسائی حاصل کر سکیں۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ میڈیکل ایمرجنسی میں دیر خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اور بروقت تحقیقات شکوک و شبہات کو ختم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی حفاظت اور صحت اولین ترجیح ہونی چاہیے، جبکہ قانونی اور سکیورٹی معاملات میں مکمل شفافیت بھی ضروری ہے۔بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جیل اور سرکاری اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کے کردار پر بھی بات کی اور کہا کہ سوشل میڈیا حقیقت دکھا رہا ہے، مگر مین اسٹریم میڈیا کنٹرول میں ہے۔اے بی این نیوز کےپروگرام’’ ڈیبیٹ @8 ‘‘میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ
لوگ غلامی اور ناانصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اور ظلم کے باوجود سڑکوں پر نکلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ عوام خاموش نہیں بیٹھے۔ بابر اعوان نے خبردار کیا کہ اگر رپورٹ فوری طور پر نہیں دی گئی تو یہ بری نیت کی علامت ہے، جس کا نقصان براہِ راست بانی کو پہنچایا جا رہا ہے۔
سابق وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ @8‘‘ میں جیل میں قیدیوں کے حقوق اور سیاسی شفافیت کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ جیل میں ہر قیدی کی صحت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سپرنٹنڈنٹ جیل اور میڈیکل عملے پر لازم ہے کہ قیدیوں کو بہترین طبی سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی قیدی کو علاج سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور اگر بدلے کی کارروائی یا جان بوجھ کر غفلت ثابت ہو تو سخت ایکشن ہونا چاہیے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ شفاف تحقیقات کے بغیر الزامات یا فیصلے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے، اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جیل کے اندر بھی آئین کی عملداری ضروری ہے اور ہر قیدی کو اہل خانہ سے ملاقات کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات بنیادی انسانی اور قانونی حق ہے اور اسے بلاجواز محدود نہیں کیا جا سکتا۔
میاں جاوید لطیف نے مزید کہا کہ اداروں کے خلاف بغاوت پر اکسانا یا ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا آزادی اظہار نہیں ہے۔ انہوں نے ماضی کے سیاسی عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2018 کے سیاسی معاملات اور فارن فنڈنگ کیس برسوں تک زیر بحث رہے، مگر ان کے مکمل حقائق قوم کے سامنے نہیں آئے۔ سوال یہ ہے کہ فنڈنگ کن ذرائع سے ہوئی اور مقاصد کیا تھے، اور جلسوں و سیاسی سرگرمیوں پر اخراجات کے ذرائع پر شفافیت کیوں نہ آئی؟
سابق وفاقی وزیر نے زور دیا کہ مقبولیت کا بیانیہ اپنی جگہ، لیکن احتساب اور شفافیت ہر سیاسی جماعت کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شفافیت ہو تو موجودہ مقبولیت کا اندازہ بھی واضح ہو جائے گا اور قوم کو بتایا جا سکتا ہے کہ جلسوں کے لیے آنے والا پیسہ کہاں سے آ رہا تھا۔
مزید پڑھیں :کابینہ کا اہم اجلاس، بڑے فیصلوں کی منظوری،جا نئے تفصیل















