اہم خبریں

وفاقی محتسب کا تاریخی فیصلہ، حاضر سروس وائس چانسلر کو ملازمت سے برطرف کرنےکا حکم جاری کر دیا گیا

اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی محتسب نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے حاضر سروس وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان کو جنسی ہراسانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ملازمت سے فارغ کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال اور “کوئیڈ پرو کو” نوعیت کی ہراسانی ثابت ہو چکی ہے، اس لیے متعلقہ اتھارٹی فوری طور پر برطرفی کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

فیصلے کے متن کے مطابق وائس چانسلر نے ایک طالبہ کو غیر قانونی پیشہ ورانہ مراعات فراہم کیں، جن میں غیر معمولی تقرریاں اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ وفاقی محتسب نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد، بالخصوص موبائل پیغامات اور انتظامی فیصلوں کا ریکارڈ، اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختیارات کا استعمال ذاتی مفاد کے لیے کیا گیا۔ محتسب نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں جہاں استاد اور طالبہ کے درمیان اختیار اور اثر و رسوخ کا واضح عدم توازن موجود ہو، وہاں مبینہ رضامندی کو قانونی جواز کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں یہ اہم قانونی مشاہدہ بھی شامل کیا گیا کہ طاقت کے غیر مساوی تعلق میں رضامندی اپنی آزادانہ حیثیت کھو دیتی ہے، لہٰذا اسے دفاع کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی محتسب نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھیں اور اپنے منصب کو کسی ذاتی تعلق یا فائدے کے لیے استعمال نہ کریں۔

وائس چانسلر کی جانب سے دائر اپیل کو بھی مسترد کر دیا گیا۔ دوسری جانب متاثرہ طالبہ پر لگائے گئے مالی بدعنوانی کے الزامات شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر خارج کر دیے گئے۔ فیصلے میں زور دیا گیا کہ کسی بھی سرکاری عہدے دار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا اور ہراسانی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ تعلیمی اداروں میں اختیارات کے غلط استعمال کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے اور مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں :عدالتی تاریخ میں نیا موڑ ،جسٹس محسن اختر کیانی نے میاں بیوی کے درمیان صلح کرا دی

متعلقہ خبریں