اہم خبریں

سانحہ اسلام آباد،تا نے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،وزیر دفاع

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ترلائی کی مسجد پر ہونے والے دہشتگرد حملے میں افغان شہری بھی ملوث تھے اور چار روز قبل ہونے والے اس حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں افغانستان کی جانب سے کسی قسم کی سنجیدگی نظر نہیں آتی اور افغان طالبان کی طرف سے کبھی بھائی چارہ یا خلوص دکھائی نہیں دیتا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ 78 سال میں افغانستان کے ساتھ کبھی ایسا تعلق نہیں رہا جو مکمل اعتماد پر مبنی ہو۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ افغان رجیم کی واپسی پر جو بیان اور ٹویٹ انہوں نے کیا تھا، اس پر آج شرمندگی اور ندامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ وہ ٹویٹ پڑھتے ہیں تو خود بھی افسوس ہوتا ہے کہ ایسا کیوں کیا۔ لوگ آج بھی اس ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہیں، لیکن ان کے مطابق ماضی میں ایسا بیان نہیں دینا چاہیے تھا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ماضی کے تجربات اچھے نہیں رہے اور کابل کے حکمرانوں کے اندر بھی کئی دراڑیں موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سفارتی کردار سے معاملات حل نہ ہوئے تو پاکستان کو کوئی نہ کوئی سخت قدم اٹھانا پڑے گا کیونکہ ہمارے پاس آپشنز دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس روز کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں پاکستان کے کئی شہری شہید ہوئے ہیں اور دہشتگردی کا سلسلہ افغانستان سے رک نہیں رہا۔ اگر افغان حکام صرف تماشائی بنے ہوئے ہیں تو پھر وہ بھی اس جرم میں شریک سمجھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لیے وہ تیار ہیں، لیکن یہ ممکن نہیں کہ ایک دن مذاکرات ہوں اور اگلے دن افغانستان سے حملے جاری رہیں۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ آج کی دنیا میں ہر چیز تجارتی روابط کے گرد گھومتی ہے اور افغانستان کو بھی اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ قازقستان اور ازبکستان کے صدور پاکستان آئے تو صرف تجارت کی بات کی، اسی طرح ترکیہ، یو اے ای، سعودی عرب، قطر اور دیگر ممالک بھی مختلف سطح پر کوششیں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ حتمی وقت کا تعین نہیں کیا جا سکتا، لیکن جتنا جلدی ہو پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر ردعمل دینا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالث ممالک بھی مذاکرات میں کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں بھی اندازہ ہے کہ تاخیر کے نقصانات پاکستان کو اٹھانا پڑ رہے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق قوی امکان ہے کہ پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے۔وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت مکمل طور پر آن بورڈ ہو، کیونکہ حکومت کے تعاون کے بغیر دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں