اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نےکہا ہے کہ 8 فروری کے احتجاج نے سیاسی طور پر پاکستان تحریک انصاف کے گراف کو کمزور کیا ہے۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ اگر بروقت سیاسی محنت اور سنجیدہ تیاری کی جاتی تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی، مگر غیر مؤثر احتجاج کے اثرات پی ٹی آئی کے لیے منفی ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سے قبل واضح حکمت عملی اور تیاری کا فقدان نظر آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کے بعد دو ماہ کا قیمتی وقت ضائع کیا گیا اور کوئی مؤثر احتجاج سامنے نہیں آ سکا۔ ان کے مطابق پارٹی میں لانگ مارچ کی باتیں تو کی جا رہی ہیں مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا، صرف شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں پارٹی کی احتجاجی صلاحیت واضح طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اندر گروپنگ، اندرونی اختلافات اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کی سیاست احتجاجی عمل کو روک رہی ہے۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ’’تجزیہ‘‘ میں گفتگو کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ
پارٹی کے اندر حوصلے اور تنظیمی مہارت کی کمی بھی احتجاجی سیاست کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق 9 مئی کے بعد پارٹی کو سب سے زیادہ نقصان اندرونی تقسیم نے پہنچایا ہے۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پارٹی کارکنان اندرونی اختلافات کی وجہ سے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر پی ٹی آئی کی سیاسی اور احتجاجی قوت پر پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیں :سولر صارفین کیلئے بری خبر،نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم ، نیٹ بلنگ کا نیا نظام نافذ















