اسلام آباد ( اے بی این نیوز )اسلام آباد کی امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش دھماکے میں ملوث بمبار کی شناخت وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتا دی ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور افغان شہری نہیں تھا، تاہم اس نے متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر کیا تھا۔ خودکش بمبار کی شناخت یاسر ولد بہادر خان کے نام سے ہوئی ہے اور اس کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے بتایا جا رہا ہے۔
حملہ آور کے لباس سے ملنے والے شناختی کارڈ کے مطابق موجودہ پتہ “ڈاکخانہ گنج، محلہ قاضیان، پشاور” جبکہ مستقل پتہ “شیرو جنگی، چارسدہ روڈ محلہ عباس کالونی، پشاور” درج ہے۔ طلال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد اب سافٹ اہداف یعنی عوامی مقامات کو نشانہ بنا رہے ہیں، لیکن ریاست کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جنگ ہے جو جیتنے کے لیے لڑی جا رہی ہے اور پاکستان اس جنگ میں کامیاب ہو رہا ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ دہشتگردی بیرونی سرمایہ کاری اور ڈالرز کے عوض کی جا رہی ہے اور بھارت نے اس سرمایہ کاری کو تین گنا بڑھا دیا ہے۔ دہشتگردوں کو ڈالرز میں تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور پاکستان نے عالمی برادری کو ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد حکومتی ذرائع نے بتایا کہ بمبار کے قریبی تعلق رکھنے والے چار افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ بمبار کے سہولتکاروں اور معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف اسپیشل ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن میں کاؤنٹر ٹیررازم کے افسران بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور کے موجودہ اور سابقہ ٹھکانوں کی تحقیقات جاری ہیں اور قومی شناختی کارڈ پر درج پتوں پر چھاپے مارے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں اور اس جنگ میں پاکستان کامیاب ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں :موت سے 6 ماہ پہلے پیدا ہو نے والی تبدیلیاں،حیران کن دعویٰ سامنے آگیا، جا نئے تفصیلات















