اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملکی سیاسی صورتحال، انتخابی عمل، احتجاجی حکمت عملی اور حالیہ واقعات پر تفصیلی مؤقف پیش کیا۔ پریس کانفرنس میں دونوں رہنماؤں نے آٹھ فروری کے عام انتخابات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس روز طاقت اور دباؤ کے ذریعے عوامی مینڈیٹ چوری کیا گیا اور ووٹرز کے حق رائے دہی کو بری طرح پامال کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک بھر میں عوام پر مختلف طریقوں سے جبر کیا گیا، اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے پیکا ایکٹ جیسے کالے قوانین متعارف کروائے گئے اور عدلیہ کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بنیاد آزاد عدلیہ اور شفاف انتخابات ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ان دونوں ستونوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی جلسے کرنا چاہتی تھی جبکہ اپوزیشن
مولانا فضل الرحمن نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے پہیہ جام کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسی یکجہتی کے تحت آٹھ فروری کو اپنے تمام جلسے جلوس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا مقصد انتشار نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری حقوق کا تحفظ ہے، اسی لیے احتجاجی سرگرمیاں آٹھ فروری کے بعد کی جائیں گی۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ صرف عام انتخابات ہی نہیں بلکہ ضمنی انتخابات میں بھی دھاندلی کی جا رہی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انتخابی نظام پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مؤقف ایک ہے اور تمام جماعتیں نئے اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتی ہیں تاکہ عوام کو ان کا اصل حق واپس مل سکے۔ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اس کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے بھی دہشتگردی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک میں امن و امان قائم رکھنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بسنت پر پابندی کا فیصلہ درست ہے کیونکہ اس سے قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکتا ہے، اور ایسے اقدامات عوامی مفاد میں ہوتے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اپوزیشن جماعتیں باہمی اتحاد کے ساتھ جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گی اور عوام کی آواز بن کر ہر فورم پر اپنے مطالبات پیش کریں گی۔
مزید پڑھیں :کراچی سے افسوسناک خبر، صورتحال سنگین ، 10 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں مصروف عمل















