اسلام آباد ( اے بی این نیوز )اے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ نے اسلام آباد میں امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی اور اسے پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ برداشت سانحہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ اس وقت کیا گیا جب لوگ نماز میں مصروف تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگردوں کا نہ کوئی دین ہے اور نہ انسانیت سے کوئی تعلق۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ واقعے کی خبر سنتے ہی دل شدید دکھ اور کرب میں مبتلا ہو گیا۔ ان کے مطابق ایسے واقعات اگر بار بار ہوں تو یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل بھی اسلام آباد کچہری کے باہر دہشتگردی کا افسوس ناک واقعہ پیش آ چکا ہے، جہاں وکلاء برادری کو نشانہ بنایا گیا، کئی زخمی ہوئے اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
سینئر پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ آج ایک بار پھر معصوم شہریوں کی جانیں گئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جس پر پورا پاکستان سوگوار ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے ہر واقعے پر قوم متحد ہو کر غم میں شریک ہوتی ہے اور ہر گھر میں دکھ کی کیفیت پھیل جاتی ہے۔اے بی این نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ@8‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
پاکستان تحریک انصاف نے اس سانحے پر کھل کر مذمت کی ہے اور شہداء کے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت اور سیکرٹری اطلاعات کی جانب سے باقاعدہ بیانات اور سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کیے گئے تاکہ قوم کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ پی ٹی آئی ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔
نعیم حیدر پنجوتھہ نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ شہداء اور افواجِ پاکستان کے ساتھ فرنٹ فٹ پر رہی ہے اور ہر پاکستانی کا دکھ پارٹی کا اپنا دکھ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خلاف صرف بیانات کافی نہیں بلکہ ایک مؤثر اور عملی لائحہ عمل کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کا مستقل طور پر سدباب کیا جا سکے اور عوام خود کو محفوظ محسوس کریں۔
اختیارولی نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کا حوصلہ اور عزت ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے کمزور نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان گزشتہ چالیس برس سے اس عفریت کا سامنا کر رہا ہے، مگر نہ پہلے دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق افغانستان میں شرپسند دہشت گردوں کے ٹھکانے اور تربیتی کیمپس موجود ہیں، جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ ا
ختیارولی کے مطابق ان دہشت گرد گروہوں کو بھارت کی جانب سے فنڈنگ اور سہولت کاری بھی فراہم کی جا رہی ہے، جو خطے میں عدم استحکام پھیلانے کی منظم کوشش ہے۔اختیارولی کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مکمل طور پر متحرک ہیں اور دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 10 سے 15 سال سے اس نوعیت کی بزدلانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، مگر ریاستی اداروں کی قربانیوں اور عوام کے حوصلے کے باعث دشمن کو کبھی کامیابی نہیں ملی۔انہوں نے مساجد اور امام بارگاہوں پر حملوں کو انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبادت کے دوران حملہ انتہائی قابل مذمت اور قابل نفرت عمل ہے۔
ان کے مطابق دہشت گردوں کا اصل مقصد یہی ہے کہ عوام کی زندگی مفلوج ہو جائے، خوف پھیلے اور معمولاتِ زندگی رک جائیں۔اختیارولی نے کہا کہ کرکٹ، عبادات اور تہواروں کو نشانہ بنانا دشمن کی سوچ کا حصہ ہے، مگر ہمیں اس جال میں نہیں پھنسنا۔ ان کا کہنا تھا کہ روزمرہ زندگی کو روک دینا دراصل دہشت گردوں کے ایجنڈے کو کامیاب کرنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ بھی کریں اور زندگی کو معمول کے مطابق جاری بھی رکھیں۔
اختیارولی نے حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ حالات اسی طرح جاری رہے تو اس کے نتائج مثبت نہیں ہوں گے اور دشمن کو اپنی حرکتوں کا بھرپور اور سخت جواب دینا پڑے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی ایک منظم پراکسی وار ہے جس کے پیچھے بھارت ملوث ہے، اور اس وار کا مقصد پاکستان کے عوام اور ریاست کو نقصان پہنچانا ہے۔اختیارولی نے شہدا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم غم، غصے اور دکھ میں متحد ہے اور 25 کروڑ عوام کے جذبات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف مذمت کافی نہیں، اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہروں کو محفوظ بنایا جا سکے اور پاکستان کے ہر شہر کو سیف سٹی کے معیار کے مطابق محفوظ بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ایم ٹیگ گاڑی کے بغیر بھی حملہ کر سکتے ہیں، اس لیے اندرونی سہولت کاروں کے کردار اور ان کی سرگرمیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اختیارولی نے کہا کہ اب سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید اور سائنسی طریقے اپنانے کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی حکمت عملی کو ایک قدم آگے بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ دھماکے ہوتے رہیں اور ہم صرف جنازے اٹھاتے رہیں، اب فیصلہ کن اقدامات ضروری ہیں۔ اختیارولی کے مطابق تمام مکاتب فکر اور سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور سب مل کر دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اب صرف ریاست یا حکومت کا نہیں، بلکہ پاکستانی عوام کی جان اور تحفظ کا ہے، اور اس کے لیے ایک جامع قومی پالیسی بنائی جائے گی اور اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج کے واقعے نے پوری قوم کو پریشان اور دل برداشتہ کر دیا ہے۔ لاشوں اور دھماکے کے بعد کے مناظر دل دہلا دینے والے ہیں، لیکن دہشت گرد پاکستان میں دہشت پھیلانے کی اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ فوری اور سخت اقدامات کے بغیر یہ کارروائیاں رک نہیں سکتی، اس لیے ریاست اور سیکیورٹی ادارے اب بھرپور طریقے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کریں گے۔
مزید پڑھیں :بسنت کی تقریبات منسوخ















