اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) خودکش بمبار کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ ابتدائی اور مصدقہ معلومات کے مطابق خودکش حملہ آور نے افغانستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بمبار متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر کر چکا تھا اور کچھ عرصہ قبل ہی وہاں سے پاکستان واپس آیا تھا۔ تفتیشی اداروں کے مطابق افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ، طالبان رجیم کی سرپرستی میں، نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
حکومتی ذرائع ید کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردانہ کارروائی کے پس پشت افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ ان عناصر کا مقصد پاکستان میں بدامنی، خوف و ہراس اور عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم ریاستی ادارے اور عوام ان عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ذرائع کے مطابق مساجد اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی بزدلی اور کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔ پوری پاکستانی قوم ایسی مذموم کارروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ واقعے سے جڑے تمام نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں :عمران خان کی میڈیکل رپورٹ اہل خانہ کے حوالے،جا نئے تفصیلات















