اسلام آباد(اےبی این نیوز)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں دھماکہ ہوگیا۔
خودکش جہنمی کو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا – پولیس ذرائع کے مطابق 12 معصوم نمازیوں کی شہادت کی اطلاع ہے۔
پولیس زرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد 85 بتائی جا رہی ہے،دھماکہ کی جگہ سے گولی کا خول بھی برآمد۔امام بارگاہ کے گیٹ پر گارڈ کو فائر مار اندر کی طرف فائرنگ کرتا ہوا گیا، زرائع
دھماکے میں زخمی ہونے والے 71 افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔ 60 افراد کو پمز اور 11 افراد کو پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا ۔اسلام اباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ۔زخمی ہونے والے افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان
شہری ایمبولنس کے علاوہ ذاتی گاڑیوں میں زخمیوں کو پہنچا رہے ہیں۔پولیس کی بھاری نفری پمزہسپتال میں موجود،پولیس میڈیا کو فوٹیج بنانے سے روکتی رہی ہے۔
اسلام آباد کی امام بارگاہ میں دھماکہ، شہر بھر میں ہنگامی صورتحال نافذ،ترلائی میں خوفناک واقعہ، سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ، سرچ آپریشن شروع۔ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے باعث شہریوں میں بھگدڑ مچ گئی۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ شہر بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حساس مقامات، عبادت گاہوں اور داخلی و خارجی راستوں پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا مزید دھماکوں سے نمٹا جا سکے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں بھی جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔
ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے جانچ کی جا رہی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
مزید تفصیلات اور مصدقہ معلومات کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔















